کاروار 29؍جولائی (ایس او نیوز) ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے خواتین و اطفال کے ترقی وفلاح وبہبود سے متعلقہ کمیٹیوں کے سربراہوں کے ساتھ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ جتنے بھی گھریلوتشدد اور خاندانی معاملات درج ہوتے ہیں انہیں جلد سے جلد نپٹایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر تعلقہ میں بچوں کی ترقی کے لئے مقررہ افسر کی یہ ذمہ داری ہے کہ درج شدہ گھریلو تشدد معاملے کو التوا میں نہ رکھے اورکاونسلنگ کے ذریعے اسے جلد نپٹائے۔محکمہ بہبودئ خواتین و اطفال کے ڈپٹی ڈائریکٹر راجیندرا بیکل نے بتایا کہ ضلع میں سال 2017-18میں جملہ 237ایسے معاملات درج ہوئے تھے ان میں سے 212معاملات نپٹائے گئے اور25معاملات ابھی باقی ہیں۔سال2018-19میں ماہ جون تک 60معاملات داخل ہوئے ہیں ۔ ان میں سے 38معاملات نپٹائے جاچکے ہیں اور 22معاملات تحقیقاتی مرحلے میں ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کم عمر بچوں کی شادیوں کے سلسلے میں آنگن واڑی رضاکاروں کی طرف سے پولیس کو اطلاع دے کران شادیوں کو روکنے کی واضح ہدایات ہیں ، مگر ایسے معاملات کی رہنے کے بعدبھی اس سے چشم پوشی کیے جانے کی خبریں مل رہی ہیں۔ ایسی صورت میں متعلقہ افسران اور رضاکاروں پر بھی کم عمر کی شادیوں میں شامل رہنے کے معاملات درج کیے جائیں گے۔
میٹنگ میں موجود تحفظ اطفال کی افیسرپدما پاٹل نے بتایا کہ گرام سبھا، وارڈ سبھا جیسے عوامی میٹنگوں میں بچوں کی شادی روکنے سے متعلق قانون کی جانکاری دی جاتی ہے۔سال2017-18کم عمر کی شادیوں کے 4معاملوں کوروکنے میں کامیابی ملی تھی۔ایک معاملے میں ایف آئی آر داخل کی گئی ہے۔ سال 2018-19میں ہلیال تعلقہ میں بچوں کی 3شادیاں روکی گئیں جبکہ سداپور کے ایک معاملے میں ایف آئی آر داخل کی گئی ہے۔
میٹنگ کے دوران ضلع سینئرسول جج اور لیگل سروس اتھاریٹی کے صدر ٹی گووندیا،پولیس افسران، بہبودئ اطفال کے پروجیکٹ آفیسرکے علاوہ مختلف محکمہ جات کے افسران اور عملے کے افراد موجود تھے۔